آزاد جموں کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ،ضرورت،عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات2021 ءایک ساتھ منعقد کرانے کی تحریک: تحریر سخاوت سدوزئی

*آزاد جموں کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ،ضرورت،عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات2021 ءایک ساتھ منعقد کرانے کی تحریک*
*تحریر،ترتیب واہتمام:سخاوت خان سدوزئی،کشمیریات*

*مقامی حکومتیں*
مقامی حکومت سے مراد ایسی حکومت ہے جس کی باگ ڈور مقامی لوگوں کے ہاتھوں
میں ہوتی ہے وہی مقامی سطح کی پالیسیاں مرتب کرتے،منصوبے بناتے اور ان کو
عملی جامہ پہناتے ہیں۔
مقامی حکومتوں کا نظام (بنیادی جمہوریت )بنیادی ڈھانچے میں اہم کردار ادا
کرتا ہے،جس سے نئی قیادت ابھر کر سامنے آتی ہے اور تعمیروترقی میں نہ صرف
معاونت ہوتی ہے بلکہ گراس روٹ سے حقوق کے لیے موثر آوازیں اٹھتی ہیں،آزاد
جموں کشمیر میں بلدیاتی انتخابات آخری بار 1991ءمیں انعقاد پذیر ہوئے ،اس
کے بعد آنیوالی حکومتوں کی سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں آنے کے بعد فوری
بلدیاتی الیکشن انعقاد کرانے کی خانہ پوری صرف منشور کی حد تک کی لیکن چند خاندانوں کے راج نے اس عمل کو نہ پنپنے دیا،اس کا اثر یوں نئی نسل پر
پڑا کہ آج یونیورسٹی، کالج کے کسی نوجوان سے یہ پوچھاجائے بی ڈی کس کامخفف ہے تو وہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں، وہ مطالعہ پاکستان میں مقامی
حکوتوں کے اسباق تو پڑھتے ہیں لیکن ان کو مطالعہ کشمیر سے دور رکھ کرپالیسی میکرز اور قانون سازوں نے قوم سے دشمنی روا رکھی،اس نظام میں اب بدلاﺅ کی ضرورت ہے۔
 یہ لکھتے ہوئے افسوس ہورہا ہے کہ ایک کشمیری صحافی نعیم چغتائی نے آزادجموں کشمیر اسمبلی ممبران سے کیمرے کی آنکھ میں خطہ کی تحصیلیں اور اضلاع گنوائے جن کی تعداد الامان والحفیظ جو ممبران نے بتائی ناقابل تذکرہ ہے،المیہ یہ ہے کہ 49قانون سازوں کو خطہ کا ہی علم نہ ہونا باعث حیرت
ہے،اس کے پس پردہ قانون ساز بلدیاتی نمائندوں کا کام کرتے ہیں، ان کوقانون سازی پر دسترس ہی نہیں ،اس خرابی کو دور کرتے پڑھے لکھے اور موثر
قانون سازوں اور قیادت کے لیے نسل نو کو جگانا مقصود ہے جن کو صرف نعرےلگانے پر لگا دیا جاتا ہے۔
آج خصوصی اشاعت میں بلدیاتی انتخابات کی خطہ میں تاریخ،درجہ بندی،عصرحاضر میں ضرورت اور اہمیت پر تفصیلی رموز نسل نو کے لیے پیش کیے جائیں گےتاکہ جمہوریت کا بنیادی ڈھانچہ ”گاﺅں کے فیصلے گاﺅں میں“ سے بحال ہو اورنسل نو اپنے حقوق کے لیے اٹھے اور مثبت بدلاﺅ کے لیے سڑکوں پر نکلے واپس
اس وقت جائے جب سرمایہ دار نہیںمڈل کلاس طبقے کو ایوان اقتدار میں بٹھاکرآئے اس پر پہرہ دار ہو۔
* آزاد جموں کشمیر میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخ*
آزاد کشمیر میں پہلے بلدیاتی الیکشن بی ڈی ایس (بیسک ڈیموکریٹک سسٹم کے
تحت)20نومبر1960ءمیں اس وقت کے صدر کے ایچ خورشید(خورشید حسن خورشید) کےدور میں انعقاد پذیر ہوئے اس میں بی ڈی ممبر اور سٹیٹ کونسلر تھے ، بی ڈی
ممبرز سٹیٹ کونسلر کو منتخب کرتے تھے،2400سو کونسلروں نے 7اکتوبر 1961ءکےصدراتی انتخاب میں حصہ لیا، کے ایچ خورشید، سردار عبدالقیوم اور پیر علی جان شاہ کے مابین مقابلہ ہوا جس کے نتیجے میں کے ایچ خورشید پہلے منتخب
صدر کے عہدے پر متمکن ہوئے،مرحوم کے ایچ خورشید نے1962ءمیں ”جموں کشمیر
لبریشن لیگ“ کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جس نے آزاد جموں
کشمیر اور گلگت بلتستان کوریاست کی نمائندہ اور ذمہ دار حکومت تسلیم کرنے
کا نظریہ پیش کیا جو تاحال نہ تسلیم ہوسکا۔
 پیر علی جان شاہ ڈڈیال سے تعلق رکھتے تھے جوپاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں کشمیر کے بانیوں میں بھی شامل تھے،1964 میں وہ سردار ابراہیم گروپکے حمایت یافتہ امیدوار تھے، سردار ابراہیم کو ایبڈو کے تحت نااہل کر دیاگیا تھا،دوسرے الیکشن 1968 میں ہوئے تھے۔
ان دونوں انتخابات کے سٹیٹ کونسلر ز میں سردار سکندر حیات میرپور، غازی
محمد امیر پونچھ، میجر فیروز دین صاحب بھنگو پونچھ، میرپور سے چوہدری
نورحسین بھی رہے ہیں۔
اس کے بعد 1979، 1983، 1987 اور 1991 ءمیں چار مرتبہ بلدیاتی الیکشن
انعقاد پذیرہوئے، 1979 کے الیکشن میں ضلع میرپور سے صوفی رشید ، کوٹلی سے
چوہدری نظام دین، پونچھ سے کرنل رحمت اللہ آف تھوراڑ اور مظفرآباد سے
محمد خان کیانی ضلع کونسل کے چیئرمین بنے تھے۔،چیف ایگزیکٹو بریگیڈیئر
حیات نے صوفی رشید کے علاوہ باقی تینوں کو مظفرآباد طلب کیا،انھیں صدارتی
مشیر بنادیا گیا،خطہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کون کون منتخب ہوا ان تمام تر انتخابات میں منتخب نمائندوں کی تفصیلات جلد شائع کی
جائیں گی۔
رائج الوقت بلدیاتی نظام کا ماڈل پاکستان میں یہ ہے البتہ آزاد جموں
کشمیر میں بلدیاتی نظام کے لیے تاحال کوئی واضح نظام نہیں متعارف کرایاگیا۔
* دیہی علاقوں میں بلدیاتی نظام*
*ضلعی حکومت*
ضلعی حکومت چئیرمین،وائس چئیرمین،ضلع کونسل کے ارکان،چیف آفیسر اور تعلیم
و صحت کی اتھارٹیز پر مشتمل ہوتا ہے۔
*چئیرمین ووائس چئیرمین*
ضلع کونسل کے پہلے اجلا س میں چئیرمین اور وائس چئیرمین کا انتخاب مشترکہ
پینل میں،ضلع کونسل کے موجودہ ارکان میں سے،اکثریت سے لیا جاتاہے،چئیرمین ضلع کونسل کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور *وائس چئیرمین*
،چئیرمین کی عدم موجودگی میں فرائض انجام دیتا ہے۔
*ضلع کونسل*
ضلع کی تمام یونین کونسلوں کے براہ راست منتخب کردہ چئیرمین بلحاظ عہدہ
ضلع کونسل کے ممبر ہوتے ہیں،ان کے علاوہ15یا15سے کم نشستیں خواتین کے
لیے،تین یا تین سے کم نشستیں کسانوں کے لیے،پانچ یا پانچ سے کم نشستیں غیر مسلموں کے لیے ہوتی ہیں یا جو حکومت مقرر کرتی ہے،مزید ایک نشست
ٹیکنوکریٹ اور ایک نوجوانوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔
*چیف آفیسر*
ؓچیف آفیسر سرکاری ملازم ہوتا ہے،ضلع کے تمام محکمہ جات کی نگرانی کرتا
ہے اور ان میں رابطہ قائم رکھتا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی بھی
کرتا ہے۔
*ضلعی تعلیم وصحت اتھارٹیز*

تعلیم وصحت کے لیے الگ الگ اتھارٹیز قائم کیجاتی ہیں،جن کے ارکان
بالواسطہ منتخب کردہ اور حکومت کے نامزد کردہ ہوتے ہی،انتظامی سربراہ چیف
انتظامی آفیسر ہوتا ہے،چیف انتظامی آفیسر اتھارٹی کا بڑا اکاﺅنٹ آفیسر
ہوتا ہے جو فرائض ایکٹ کے تحت انجام دیتا ہے۔

*ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی*

پرائمری،ایلیمنٹری،سیکنڈری ،ہائیر سیکنڈری سکولوں کا انتظام کرتی
ہے،حکومتی تعلیمی پالیسی کو لاگو کرتے ہوئے معیار تعلیم بلند کرنے کی
کوشش کرتی ہے۔

*ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی*

پرائمری اور سیکنڈری صحت کی سہولیات کا انتظام کرتی ہے،اتھارٹی کا بجٹ
منظور کرنے،اداروں کے لیے فنڈز اور ضلعی سطح پر صحت کی سہولیات فراہم
کرتی ہے۔

*یونین کونسل*

یونین کونسل،چئیرمین،وائس چئیرمین اور6جنرل کونسلرز پر مشتمل ہوتی ہے جن
کا انتخاب مذکورہ یونین کونسل کے عوام براہ راست کرتے ہیں،اسکے علاوہ دو
عورتوں،ایک کسانوں،نوجوانوں اور غیر مسلموں ے لیے نشستیں مخصوص ہوتی
ہیں،چئیرمین یونین کونسل کا سربراہ ہوتا ہے اس کی غیر موجودگی میں وائس
چئیرمین فرائض انجام دیتا ہے۔

*شہری علاقوں میں*

*میٹروپولیٹن کارپورریشن*

 میٹروپولیٹن کارپوریشن مئیر،ڈپٹی مئیرکارپوریشن کے ارکان اور چیف آ فیسر
پر مشتمل ہوتی ہے۔

*مئیر وڈپٹی مئیر*

میٹروپولیٹن کے پہلے اجلاس میں مئیر اور ڈپٹی مئیر کا انتخاب مشترکہ پینل
میں،کارپوریشن کے موجودہ ارکان میں سےاکثریت سے کیا جاتا ہے،مئیر
میٹروپولیٹن کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور اسکی عدم موجودگی میں ڈپٹی
مئیر فرائض انجام دیتا ہے،کارپوریشن میں واقع تمام یونین کونسلوں کے براہ
راست منتخب کردہ چئیرمین بلحاظ عہدہ کارپوریشن کے ممبر ہوتے ہیں،ان کے
علاوہ45مخصوص نشستیں ہیں جن میں25عورتوں،5ورکروں،2نوجوانوں10غیر مسلموں
کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔
یہاں بھی چیف افسر سرکاری ملازم ہوتا ہے جو تمام محکمہ جات کی نگرانی کرتا ہے۔

*میونسپل کارپوریشن*

میونسپل کارپوریشن مئیر،ڈپٹی مئیر،کارپوریشن ارکان اور چیف آفیسر پر مشتمل ہوتی ہے۔

*میئر وڈپٹی مئیر*

 کارپوریشن کے پہلے اجلاس میں مئیر وڈپٹی مئیر کا انتخاب مشترکہ پینل
میں،کارپوریشن کے موجودہ ارکان میں سے اکثریت سے کیا جاتا ہے،مئیرمیونسپل
کارپوریشن کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے اسکی عدم موجودگی میں ڈپٹی مئیر
فرائض انجام دیتا ہے۔
کارپوریشن میں واقع تمام یونین کونسلوں کے براہ راست منتخب کردہ چئیرمین
بلحاظ عہدہ میونسپل کارپوریشن کے ممبر ہوتے ہیں۔
ان کے علاوہ مخصوص نشستیں15یا15سے کم خواتین،5 یا5سے کم غیر مسلموں کے
لیے نمائندے مقرر کرتی ہے۔مزیددو دو نشستیں،ورکرز،ٹیکنو کریٹ اور ایک
نوجوانوں کے لیے مختص کی جاتی ہیں۔

*میونسپل کمیٹی*

میونسپل کمیٹی،چئیرمین،وائس چئیرمین،کمیٹی کے ارکان اور چیف آفیسر پر
مشتمل ہوتا ہے۔
چئیرمین اور وائس چئیرمین
میونسپل کمیٹی کے پہلے اجلاس میں چئیرمین اور وائس چئیرمین کا انتخاب
مشترکہ پینل مین،کمیٹی کے موجودہ ارکان میں سے،اکثریت سے کیا جاتا
ہے،میونسپل کمیٹی کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور اسکی عدم موجودگی میں
وائس چئیرمین فرائض انجام دیتا ہے۔
میونسپل کمیٹی میں واقع تمام وارڈوں سے براہ راست عوام سے منتخب کردہ
کونسلر بلحاظ عہدہ کے ممبر ہوتے ہیں،ان کے علاوہ ۵ یا ۵ سے کم خواتین کے
لیے،۳ یا ۳ سے کم غیر مسلموں کے لیے ،۲ یا ۲ سے کم ورکرز کے لیے حکومت
نمائندے مقر ر کرتی ہے،مزید ایک نوجوان نمائندہ بھی شامل ہوتا ہے۔

*چیف آفیسر*

چھوٹے درجے کا سرکاری ملازم ہوتا ہے جو تمام امور کی نگرانی اور محکموں
میں ربط قائم کرتا ہے۔

*مقامی حکومتوں کے فرائض اور اختیارات*

*ضلع کونسل کے فرائض*

بائی لاز ٹیکسوں کی منظوری دینا،ضلع کونسل کے سالانہ بجٹ کی منظوری دینا
اور ان کو لاگوکرنا۔
ضلع کے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور شہریوں میں فلاحی کاموں اور معاشرتی اصلاح کا جذبہ پیدا کرنا۔
عوامی سڑکوں سے تجاوزات ہٹانا اور مویشی منڈی ،عوامی میلے منعقد کرانا۔
اور کھیلوں کا بندوبست کرنا
طوفان،سیلاب،زلزلہ اور آسمانی آفات کی صورت میں لوگوں کی مدد
کرنا،یتیموں،بیواﺅں اور معذوروں کی مدد کرنا۔
دیہی علاقوں میں پینے کے پانی ،کھیتوں میں پانی مہیاکرنے کے لیے یونین
کونسلوں کی مدد کرنا،پل اور عوامی عمارتوں کی تعمیر کرنا
انڈسٹری،زراعت اور کمرشل مارکیتوں کے لیے زمین مہیا کرنا
ضلع کی ترقی کے لیے دیگر سرگرمیاں کرنا

*یونین کونسل کے فرائض*

یونین کونسل کا بجٹ منظور کرنا اور ٹیکس یا فیس کی منظوری دینا
پنچایت کے ممبر مقرر کرنا اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کرنا
عوامی رستے ،گلیاں،قبرستاں،باغ اور کھیلوں کے میدان کو بحال رکھنا اور
روشنی کا بندوبست کرنا
پینے کے پانی کے ذرائع یعنی کنویں،ٹیوب ویل،پانی کے ٹینک اور نالے قائم
کرنا اور ان کو بحال رکھنا
مویشیوں کے لیے پینے کے پانی اور ان کے لیے چرانے کے لیے چراگاہوں کا بندوبست کرنا
یونین کونسل کے رہائشیوں کی صحت اور ان کے تحفظ کا بندوبست کرنا
ضلع کونسل کی منظوری سے انڈسٹری،زراعت اور کمرشل مارکیٹوں کا بندوبست
کرنا اور میونسپل قوانین اور بائی لازلاگو کرنا ہے۔

*میٹروپولیٹن/میونسپل کارپوریشن کے فرائض*

منصوبے ،زمین کے استعمال کے منصوبے،ماحولیات کے منصوبے اور شہری منصوبوں
کی منظوری دینا۔
قوانین اور بائی لاز کی منظوری اور ان کو لاگو کرنا،گھروں کی
کالونیاں،مارکیٹیں،سڑکیں،عوامی مفادات کے منصوبے بنانا اور لاگو کرنا۔
عوامی ٹریفک کے نظام کو درست رکھنا،پل فلائی اوور،انڈر پاس اور سڑکیں
بنانا اور ان کو بحال رکھنا،علاقے کو خوبصورت بنانا اور بحال رکھنا۔
پینے کے پانی کے ذخائر ووسائل کو بنانا اور بحال رکھنا،گندے پانی کے
اخراج کا بندوبست کرنا اور دیگر شہری سہولیات کا بندوبست کرنا۔
قوانین،میونسپل قوانین اور بائی لاز بنانا اور ان کو لاگو کرنا۔
لائیبریریاں ،عجائب گھر اور مصوری کے مراکز قائم کرنا اور بحال رکھنا ۔
بجٹ بنانا اور ترقیاتی منصوبے بنانا اور ان کے لیے رقوم فراہم کرنا ،
ٹیکسوں اور فیسوں کی منظوری دینا اور ان کو وصول کرنا۔
بجٹ بنانا اور ترقیاتری منصوبے بنانا اور ان کے لیے رقوم فراہم
کرنا،ٹیکسوں اور فیسوں کی وصولی ومنظوری۔
کھیلوں کا بندوبست کرنا ،ثقافتی میلوں اور منڈیوں کو منعقد کرنا اور بندوبست کرنا۔
ہرقسم کے لائسنس کے پرمٹ اور اجازت نامے جاری کرنا۔
بیواﺅں،یتیموں،معذوروں اور آسمانی آفات کے متاثرین کی مدد کرنا۔
میونسپل قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دلوانا۔
میونسپل کمیٹی کے فرائض
مقامی حکومتوں کے لیے منصوبے بنانا،ان کی منظوری دینا،ان کے لیے مالیات
کا بندوبست کرنا
مقامی زمینوں کی تقسیم اور ان کے استعمال کا بندوبست کرنا،انڈسٹری،زراعت
اور کمرشل مارکیتوں کے لیے زمین مہیا کرنا اور ان کا بندوبست کرنا۔
پارک بنانا،کھیلوں کے لیے میدان اور قبرستانوں کے لیے جگہ مختص کرنا اور
سڑکیں ،گلیوں کا بندوبست کرنا اور انکو بحال رکھنا۔
پینے کے پانی کا بندوبست کرنا،گندے پانی کے نکاس کا انتظام کرنا۔
ٹیکس اور فیسوں کی منظوری دینا اور ان کو وصول کرنا۔
مویشی منڈیاں قائم کرنا،مویشی میلے قائم کرنا ، کھیلوں کے میدان کا
بندوبست کرنا اورثقافتی ملیے منعقد کرنا۔
میونسپل قوانین کے خلاف ورزی کرنیوالوں کوسزا دلوانا
میونسپل کمیٹی کے لیے قوانین اور بالاز بنانا اوران کو لاگو کرنا
 
*بلدیاتی انتخابات آزاد جموں کشمیر کی ضرورت اور اہمیت*

 آزاد جموں کشمیر میں اس وقت10اضلاع،32تحصیلیں،19ٹاﺅن اور182یونین کونسلز
کی45لاکھ کے قریب آبادی ہے،تقریبا30سالوں سے آزاد جموں کشمیر میں بلدیاتی
نظام کی معطلی کے باعث بلدیاتی اداروں میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو
صوابدیدی تعینات کیا جاتا ہے،جس کے بعد موروثی سیاست کا راج ہے،عام آدمی
کو صرف چند اجارہ دار خاندانوں نے اقتدار سے دور کررکھا ہے،دادا،باپ کے
بعد پوتے کی جی حضوری کا کلچر عام ہے، آزاد جموں کشمیر میںمعطل بلدیاتی
نظام کی بناپر تعمیر وترقی کا پہیہ سکوت کا شکا رہے،1996ءسے لیکر آج تک
آنیوالی حکومتیں عوام سے بلدیاتی الیکشن کے نام پر دھوکہ کرتی آرہی ہیں
2006ءمیں مسلم کانفرنس کے پہلی بار منتخب ہونے والے وزیر اعظم سردار عتیق
احمد کو سابق صدر ووزیر اعظم سردار عبدالقیوم کے صاحبزادے مسلم کانفرنس
کے قائد ہیں اس وقت انتخابی منشور میں یہ شامل کیا کہ حلف لینے کے روز وہ
بلدیاتی انتخاب کا اعلان کریں گے،مگر ان کے اکثر اعلانات ہو ا میں
رہے،2011ءمیں پی پی کی قائم حکومت نے اقتدار میں آنے کے صرف6ماہ میں
بلدیاتی انتخاب کا اعلان کیا جو محض اعلان ہی رہا،2016ءمیں قائم ہونے
والی ن لیگ کی حکومت کے سربراہ فاروق حیدر نے بھی پی پی اعلان کی توثیق
کی مگر وہ بھی پاور نچلی سطح پر منتقل کرنے میں ناکام رہے۔
تحریک انصاف آزاد جموں کشمیر کے موجودہ صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے
پی پی دور حکومت میں بلدیاتی انتخاب معطل ہوئے کا کہنا ہے کہ اقتدار میں
آنے کے 3ماہ میں بلدیاتی اانتخابات کے اعلانات کرتے نظر آرہے ہیں۔
بعینہ ن لیگ،مسلم کانفرنس اور پی پی بھی بلدیاتی انتخاب کو منشور کے
کاغذی حصے پر لکھنے کی خواہاں ہے،عوام ان کا قبل از آزما چکے لیکن ان کے
وعدہ ایفا نہ ہوئے اب تحریک انصاف کے وعدوں پر عوام کی نظر ہے۔
البتہ 4فروری کو تحریک انصاف آزاد جموں کے بانی سیکرٹری جنرل سردار بابر
حسین نے اپنی نئی سیاسی جماعت کا باقاعدہ قیام عمل میں لاتے ہی منفرد
منشور عوام کے سامنے رکھ دیا کہ بلدیاتی الیکشن ،جنرل الیکشن ایک ساتھ
انعقاد پذیر کیے جائیں تاکہ طاقت کا سرچشمہ حقیقی معنوں میں عوام میں نظر
آسکے،اس ضمن میں وہ آزاد جموں کشمیر کے مختلف حلقہ جات میں سیمینارز بھی
کررہے ہیں۔
دوسری جانب پرنٹ،الیکٹرونک،ویب میڈیا سمیت گاﺅں گاﺅں،شہر شہر ،نگر نگر
،گلی گلی بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لیے مہم زوروں پر پہنچ چکی
ہے،نوجوان شہری اس بار زیادہ متحرک ہیں،ہوٹلوں،گھروں،عوامی مقامات پر
بلدیاتی الیکشن جنرل الیکشن ایک ساتھ کی بحث وتمحیض جارہی ہے،الیکشن
کمیشن سے دونوں انتخابات ایک ساتھ کرانے کا مطالبہ ہورہا ہے، شہریوں کا
کہنا ہے کہ30سال سے سکوت کا شکاربلدیاتی نظام کی وجہ سے صحت وصفائی،پختہ
نالیوں،واٹر ٹینکس ،سڑکوں کی کمی سمیت بے شمار مسائل ہیں،ٹونٹی،نلکا اور
کھمبا سیاست کی بھینٹ ممبران اسمبلی نے چڑھا رکھا ہے،وقت آگیا ہے اب اس
نظام کو ایک ساتھ بدلا جائے، بلدیاتی نمائندوں کے لیے ایک ساتھ انتخاب
کرکے نئی قیادت سامنے آسکتی ہے،بار بار بجٹ کی ضرورت نہیں پڑتی بیلٹ پیپر
کی مختلف کلر سکیم کرکے بلدیاتی اور جنرل نمائندوں کاانتخاب کرکے خطہ کو
تعمیر وترقی کی راہوں پر گامزن کیا جاسکتا ہے،سوشل میڈیا پر متحرک تحریک
انعقاد بلدیاتی الیکشن بھی خاصی متحرک ہے،بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے
لیے ےٹویٹر اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا پر ٹرینڈز کیے جارہے ہیں۔
بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے تاحال ایکٹ74کے مطابق الیکشن کمیشن آزاد جموں
کشمیر کی ویب سائٹwww.ec.ajk.gov.pk پر تفصیلات نہیں فراہم کی گئی
ہیں،الیکشن کمیشن حکام کو گزشتہ الیکشن میں ویب سائٹ نہ ہونے کی وجہ سے
جانب اس وقت کے چیف الیکشن کمیشن کو بھی راقم نے خبر شائع کرکے متوجہ کیا
تھا لیکن ویب سائٹ کو بھرپور طریقے سے اپ ڈیٹ کرکے عام شہری کے لیے آسان
نہیں بنایا جارہا،نہ سابقہ الیکشن رزلٹس اور نہ ضمنی الیکشن رزلٹ کی
تفصیلات اس سائٹ پر موجود ہیں،شہریوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اس جانب
بھی متوجہ ہو،خطہ میں عام انتخابات بلدیاتی انتخابات2021ء ایک ساتھ
انعقاد کروا کرجمہوریت کی اصل روح بحال کی جائے،ویب سائٹ پر عام انتخابات
کے علاوہ بلدیاتی انتخاب کی خطہ میں انعقاد،بلدیاتی نمائندوں کے
عہدوں،نشستوں ،ان کے اختیارات وفرائض کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں تاکہ
نسل نو اس سے واقف ہو اور خطہ کو نئی قیادت میسر آسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں