اردو بطور دفتری زبان وقت کی ضرورت


اردو بطور دفتری زبان وقت کی ضرورت
*تحریر: فریحہ ستار*
*میاں چنوں، خانیوال پاکستان*

زبان ذرائع ابلاغ کا ایک اہم ذریعہ ہے، کسی بھی ملک کی ترقی میں زبان اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے اپنی قومی زبان کو ہی سرکاری زبان کے طور پر فروغ دیا ہے۔
کہنے کو تو ہمارے ملک کی قومی زبان اردو ہے مگر ہر عام و خاص ایک غیر ملکی زبان انگریزی کو اپنانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔
اردو ہماری قومی زبان ہے اس لئے ہمیں اردو کے تحفظ کے لئے اس کا پرچار کرنا ہے۔کیونکہ زبان کے تحفظ میں ہی ہماری قوم کی اصل بقاء ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ صرف وہ قوم ہی ترقی پا سکی ہے جس نے اپنی قومی زبان کو اپنانے میں فخر محسوس کیا ،
ایک مثال ترقی یافتہ ملک چین کی ہی لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی قومی زبان پہ بھروسہ کرکے یہ بتایا کہ
‘ انگریزی زبان ترقی کی ضامن نہیں ‘
چینی صدر کے سامنے جب انگریزی زبان میں سپاس نامہ پیش کیا گیا تو انہوں نے ایک تاریخی جملہ بولا کہ

*”چین ابھی گونگا نہیں ہوا”*

اردو ایک مکمل زبان کی حیثیت رکھتی ہے، پاکستان کے ہر صوبے کی عوام اپنی علاقائی زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان پر ایک مضبوط گرفت رکھتی ہے۔لیکن اگر ہمارے ہاں انگریزی زبان کو زیادہ اہمیت حاصل ہوئی تو اردو اپنی شناخت کھو دے گی جس کے ساتھ ہماری پہچان بھی ختم ہو جائے گی ۔

ضرورت اس امر کی ہے،
کہ اردو زبان کو اپنی شان تصور کرتے ہوئے سرکاری، نیم سرکاری اور دیگر خانگی دفاتر میں نافذ کیا جائے تاکہ ہمارا ملازم طبقہ اپنے فرائض کو زیادہ بہتر طریقے سے ادا کریں،اردو زبان کو پورے ملک میں بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں پھر کیوں ہمارے دفاتر میں غیروں کی زبان رائج ہے؟
مغلیہ دور 1849ء میں پہلی دفعہ اردو کو پنجاب میں دفتری زبان کا درجہ دیا گیا اب خالص اردو بولنے والوں کی تعداد 12 کروڑ سے زائد ہے۔اس لحاظ سے اردو دنیا کی نویں بڑی زبان ہے۔

شاعر نے کیا خوب لکھا ہے
بات کرنے کا حسین طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا

1973 کے آئین کے تحت شق 251 کے مطابق اردو کو دفتری زبان بنانے کا اعلان ہوا لیکن عمل نا ہو سکا، پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے 8 ستمبر 2915 کو سرکاری دفاتر میں اردو کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کے احکامات جاری کردئیے مگر ابھی تک کوئی خاص کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی،
المختصر یہ کہ اردو زبان ہماری قومی پہچان ہے اس کی شناخت ہماری قوم کی شناخت ہے اسے زندہ رکھنے کے لئے سب دفاتر میں اسے رائج کیا جائے، کیونکہ اردو وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں