مقبول بٹ شہید جدوجہدآزادی کا استعارہ

مقبول بٹ شہید جدوجہدآزادی کا استعارہ
تحریر:سخاوت خان سدوزئی،جموں کشمیر
 ”میں سمجھتا ہوںکہ جو لوگ اپنے ضمیر کی آواز پر حق باطل کی اس کبھی نہ
ختم ہونے والی جنگ میں سچائی کی علمبردار قوتوںکے ساتھ خود کو شناخت کرتے
ہیں انھیں نہ تو صلے کی طلب ہوتی ہے اور نہ ہی ستائش کی تمنا۔
ذاتی طور پہ وطن اور اہل وطن سے متعلق اپنی امنگوں کے لیے جدوجہد کے
دوران سچائی کے منکرین کے ہاتھوںbeating and burningکے مرحلوں میں سے گزر
چکا ہوں،اس دوران میرے حوصلوں کو پست کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اب ان
کے پاس hangingکا مرحلہ باقی رہ گیا ہے،جسے اب و آزمانا چاہتے ہیں،دعا
کیجئے کہ اللہ تعالی آزمائش کی اس گھڑی میں میرے عزم و ایمان کو قائم
رکھے اور مجھے صبر واستقامت سے نوازے تاکہ امتحان کے اس آخری مرحلے میں
میرے پائے ثبات میں لغزش نہ آنے پائے،جبر وغلامی اور ظلم وعداوان کی
علمبردار قوتوں سے معرکہ آراءہونا انسانیت کا سب سے بڑا شرف ہے۔“
یہ وہ تاریخی الفاظ تھے ریاست جموں وکشمیر کے عظیم سپوت کے جس نے آج سے
37سال قبل آج ہی کے دن اپنے لہو سے مادر وطن کے اپنے لگائے ہوئے شجر
آزادی کو اپنے لہو سے سینچا،یہ اس عظیم انقلابی اور اپنی قوم کا درد اپنے
سینے میں موجزن رکھنے والے شہید کشمیر محمد مقبول بٹ شہید کے تاریخی
الفاظ تھے جو انھوں نے سینٹرل جیل نئی دہلی سے 7اگست 1981کواپنے ایک دوست
میاں غلام سرور کے نام ایک خط کی تحریر میں ثبت کیے۔
عظیم انقلابی بابائے قوم مقبول احمد بٹ 18فروری 1938کو کشمیر کے ایک
گاو ¿ںتریگام تحصیل ہند واڑہ ضلع کپواڑہ میں پیدا ہوئے ، والد کا نام
غلام قادر بٹ تھا ، جو ایک محنت پیشہ آدمی تھے،مقبول بٹ شہید نے ابتدائی
تعلیم گاﺅں کے پرائمری سکول سے حاصل کی،بی اے سینٹ جوزف کالج بارہ مولہ
سے کیا،سکول اور کالج کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کالج کے پرنسپل مسٹر
شنکش نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ نوجوان کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دے گا۔
مقبول بٹ شہید بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1958ءمیں اپنے چچا
عبدالعزیز کے ہمراہ جنگ بندی لائن عبور کرکے وادی آزادکشمیر میں داخل
ہوئے،سرحدی محافظوں نے پوچھ گچھ کرکے انھیں مظفر آباد قلعہ میں بند
کردیا،رہائی کے بعد مقبول بٹ شہید پشاور میں رہائش پذیر ہوئے،یہاں پشاور
یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا،تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ ایک روزنامہ ”انجام
“سے بھی وابستہ ہوکر شعبہ صحافت میں قدم رکھا،شہید کشمیر نے اس وقت ایک
ہفتہ وار ”خیبر ویکلی“ رسالہ بھی شروع کیا،جو زیادہ دیر نہیں چل سکا،
پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور صحافت میں ڈگریاں حاصل کیں۔
یہ پاکستان میںبھی قید رہے بھارت کی جیلیں کاٹیں مگر آپ حق سے دستبردار
نہ ہوئے ،6 فروری1984ءکو لندن میں بھارتی سفارت خانے کے ایک اہلکار
ریوندر مہاترے کو ”کشمیر لبریشن آرمی“ کے خفیہ اہل کاروں نے
اغواءکرلیا،24گھنٹوں میں مقبول بٹ شہید اور ان کے ساتھیوں کو رہائی کا
مطالبہ کیا،بھارتی حکومت نے یہ مطالبہ نہ مانا ،54گھنٹے گزر
گئے،اغواءکاروں نے مہاترے کو قتل کردیا،جس کے بات بھارتی حکومت نے آزادی
کے عظیم سپوت محمد مقبول بٹ شہید کو پھانسی دینے کا اعلان کردیا،اپنے اس
عظیم قائدکو سزائے موت سے بچانے کے لیے کشمیریوں نے بہت کوششیں
کیں،چنانچہ11فروری1984ءکو علی الصباح کو آزادی مانگنے کے جرم میں بھارتی
سفاک حکومت نے مقبول بٹ شہید کو تختہ دار پر لٹکا دیا،پھانسی کے پھندے پر
لٹکتے ہوئے محمد مقبول بٹ شہید کے آخری الفاظ تھے،”میرے وطن تو ضرور آزاد
ہوگا“۔
مقبول بٹ شہید کی نعش بھارتی حکام نے حوالے کرنے سے انکار کردیا، چنانچہ
تہاڑ جیل کے احاطے میںمحمد مقبول بٹ شہید کو دفن کردیا،آج 37برس گزر جانے
کے باوجود بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے عظیم قائد کا تابوت کشمیریوں کے
حوالے نہ کیا۔
بقول فیض
جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جانی کی کوئی بات نہیں
محمد مقبول بٹ شہید کوڈرایا گیا مگر آپ نے اپنی مادر وطن سے جو وعدہ کیا
تھا اس وعدے نبھانے کےلئے تختہ دارکو چوم لیا مگر اپنے وعدے پر ڈٹے رہے
،29مارچ1981ءکوتہاڑ جیل سے ارشد محمود انصاری کے نام لکھتے ہوئے محمد
مقبول بٹ شہید کہتے ہیں”حق وباطل کی کشمکش میںحق کا ساتھ دینے والے الگ
اور منفرد مقام رکھتے ہیں،اس مفہوم کا بیان اس مختصر سے خط میں ممکن
نہیں،تاہم اتنا ضرور عرض کروں گا، کہ جس بازی کے لیے ہم زندگی داﺅ پر لگا
چکے ہیں،اس کی نوعیت ایسی ہے کہ ہار کر بھی بازی میں مات نہیں،درحقیقت
اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ انسان کامل شعور کے ساتھ زندگی کے مقاصد کی
آبیاری کرتا رہے،اگر شعور اور مقاصد کے عناصر کوزندگی سے خارج کیا جائے
توایسی زندگی حقیقت میں موت کے مترادف ہوجاتی ہے،اور شعور وعمل کی موت ہی
دراصل موت ہوتی ہے۔“
یہ الفاظ شہیدکشمیرکی سوچ اور فکر کا آئینہ دار تھے،یہ کہتے ہیں کہ
پاکستانی ایجنٹ ہے ،وہ کہتے ہیں بھارتی ایجنٹ ہے، درحقیقت میں کشمیری قوم
کا ایجنٹ ہوں،میں کشمیر میں جبر،ظلم،غلامی استحصال،منافقت،دولت پسندی اور
فرسودگی کے خلاف بغاوت کا مرتکب ہوا ہوں“۔
 آج گیارہ فروی کا دن اس عظیم قربانی کا دن ہے گیارہ فروری 1984کو تہاڑ
جیل میں بہنے والالہو آزادی پسندی کے لبوں کا گیت‘ انقلابیوں کے خون کی
حرارت ‘دھرتی کشمیر کے رہنے والوں کے لیئے جیون سراغ ہے اک مستند اصول
‘غلامی سے نجات کی اک یاس و امید ،سامراج کےخلاف لڑنے کی اک شکتی ہے
‘سقراط منصورعیسیٰ کی طرح کے مقدس خیالات عمر مختار ‘بھگت سنگھ‘گویرا‘
نیلسن منڈیلا جیسی عظیم جدوجہد کرنے والا مقبول احمد بٹ شہید تاریخ کا
انمول اور کشمیریوں کے سرکا تاج ہے، آج 37برس گزر جانے کے باوجود کشمیری
قوم کا عظیم رہبر ورہنما آج بھی دلوں میں موجز ن ہے۔
دور باطل میں حق پرستوں کی
بات رہتی ہے سر نہیں رہتے
آزادی کے اس سفر میں شہید کشمیر کو اعلی وارفع مقام حاصل ہے،محمد مقبول
بٹ شہید کی قربانی نے کشمیریوں کو نیا عزم اور حوصلہ دیا،اس عظیم سپوت نے
روایتی سیاست کے علمبرداروں کویہ کہتے ہوئے ٹھکرا یا کہ ”ہمارے لیے عہدے
اور منصب منزل نہیں ،ہماری منزل ریاست جموں وکشمیر کی مکمل آزادی اور خود
مختاری ہے،یہی وجہ ہے آج 37برس گزر جانے کے باوجود ہ شہید کشمیر کا نام
ریاست کے بچے بچے کے لبوں پر ہے،جو شہید کشمیر کے مشن کی تکمیل کے لیے
ایک راہ متعین کرتا ہے،محمد مقبول بٹ شہید کے بعد کئی کشمیری مادروطن کے
لیے قرباں ہوگئے،کامل ایماں ہے کہ وہ دن قریب آن پہنچا ہے جب ریاست شہید
کشمیر کے خواب مکمل آزادی و خود مختاری کے سانچے میں ڈھل جائے گی،افضل
گرو،برہان وانی،جنید احمد سمیت کئی آر پار سامراج کے ہاتھوں موت کی وادی
میں اترنے والوں کا لہو رائیگا نہیں جائے گا،جن کی مانگ صرف ایک ہی ہے کہ
آزادی آزادی اور بس آزادی۔
 شہید کشمیر محمد مقبول بٹ آ ج بھی آزادی کے متوالوں کی سوچوں اور فکروں
میں زندہ ہ،تابندہ، پائندہ ہیں ‘آپ کا پیغام کشمیر کے تمام حصوں کے
نوجوانوں کی رگوں میں خون کی مانند دوڑ رہا ہے،آج ریاست جموں وکشمیر کے
دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری اپنے عظیم قائد محمد مقبول بٹ
شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آج37ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ
مناتے ہوئے اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ ریاست کی مکمل آزادی اور شہید
کشمیر کے مشن کی تکمیل تک جدوجہد جاری رکھیں گے،اس موقع پر جملہ کشمیریوں
کا اقوام عالم اور اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ جنوبی ایشیاءکے
امن کے لیے ریاست جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیتے
ہوئے فی الفور ریفرنڈم کا انعقاد کرایا جائے تاکہ کشمیری اپنی قسمت کا
فیصلہ خود کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں