آزاد جموں کشمیرکے سرکردہ سیاستدانوں کی غالب اکثریت کا تحریک انصاف شمولیت کے لیےجھکائو۔


اسلام آباد(سخاوت سدوزئی)اقتدار کی ہوس،ریاست جموں کشمیر کے دونوں اطراف ریاستی جماعتیں بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف،نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی ہو یا مسلم کانفرنس، غیر ریاستی پارٹیوں نے پنجے گاڑھ لیے،آزاد جموں کشمیر کے عام انتخابات میں پاکستان کی فرنچائز جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف کے بعد ایک نئی جماعت تحریک لبیک پاکستان بھی پہلی بار آزاد جموں کشمیر کے الیکشن میں اتر رہی ہے،آزاد جموں کشمیر سیاست دانوں کی غالب اکثریت نے ریاستی اور مقامی جماعتوں کی دعویدار جماعتوں مسلم کانفرنس، جموں کشمیر پیپلز پارٹی،لبریشن لیگ جوبقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں کو چھوڑ کر حکمران جماعتوں کی جانب رخ کررکھا ہے، تاہم کچھ نئی مقامی جماعتیں بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ،جموں کشمیر پبلک رائٹس پارٹی،عام آدمی پارٹی،مزدور پارٹی سمیت دیگر جماعتیں بھی شامل ہیں جن کی بازگشت انتخابی سیاست کے مقتدر حلقوں میں سنائی دیتی ہے،تحریک انصاف آزاد جموں کشمیر کو آزاد جموں کشمیر میں متعارف کرانے والے رہنمائوں میں شامل پارٹی کے بانی سیکرٹری جنرل سردار بابر نے بھی نئی سیاسی جموں کشمیر یونائٹیڈ موومنٹ کو وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کوٹلی سے 1روز قبل۔یعنی 4فروری کو لانچ کردیا جس کی پہلی تقریب 4فروری 2021ء کو مظفرآباد سینٹرل پریس کلب میں منعقد ہوئی، 26 دسمبر 2010ء دس سال قبل مسلم کانفرنس سے جدا ہوکر مسلم لیگ بنانے والے سردار سکندر حیات سیاسی زندگی میں اقتدار کا بڑا حصہ گزارنے والی جماعت میں مسلم کانفرنس میں شامل ہوگئے، سیاسی بلوغت پانے والے مقامی سیاستدانوں نے ماضی کی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں برسراقتدار پارٹی کی جانب کی جھکائو کررکھا ہے2010ء مسلم کانفرنس ٹوٹ کر نون لیگ بنی تو پیپلز پارٹی پاکستان میں برسراقتدار تھی2011ء میں پی پی اور بعینہ 2016ء میں نون لیگ بھاری مینڈیٹ سے پاکستان میں برسراقتدار حکومتوں کی لہر کی وجہ سے اقتدار میں آئیں،ملٹی میڈیا کے اس دور میں سیاسی بلوغت کا نسل نو میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد خیال کیا جارہا ہےن لیگ کو چھوڑ کر مسلم کانفرنس واپس جانیوالوں میں بلوچ سے سردارفاروق طاہر، سہنسہ سے راجا نصیر، کھوئی رٹہ سے راجا نثار سمیت دس ممبران اسمبلی ووزراء کی سردار سکندر حیات کی سرپرستی میں واپسی کا امکان ہے،21اپریل کے بعد الیکشن شیڈول کو مدنظر رکھتے مسلم کانفرنس سے ن لیگ میں شامل ہونے والے سابق وموجودہ وزراء ممبران اسمبلی میکے واپس جائیں گے،جبکہ نون لیگ، پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کی ایک غالب اکثریت جوڑ توڑ کے ماہر کھلاڑی صدر تحریک انصاف بیرسٹر سلطان اور تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سے رابطے کرکے برسراقتدار آنے کے خواہاں ہیں، تینوں جماعتوں کی غالب اکثریت اول تحریک انصاف میں شمولیت کو ترجیح دے رہی ہے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اکثریتی امیدواران پارٹی ٹکٹس کے بجائے جی بی الیکشن کی طرح آزادانہ انتخاب لڑکر حکمران جماعت میں شامل ہونے پر غور کررہے ہیں۔عوامی حلقوں کا رحجان بھی برسراقتدار پارٹی کی جانب ہے،دوسری جانب کشمیر کونسل ممبران میں سے سردار نعیم مسلم کانفرنس میں شامل ہوگئے ہیں، مسلم کانفرنس اور تحریک انصاف کے مشترکہ ممبر کونسل بننے والے مختار عباسی نے تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ کررکھا ہے،آمدہ انتخابات میں مظفرآباد سے میدان میں اتریں گے، بلوچ سے ممبر کشمیر کونسل ملک پرویز اختر اعوان انتخاب لڑنے سے عاری ہیں ان کی برادری اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد ان کو میدان میں اترنے پر دبائو بڑھا رہی ہے، ایک بار مسلم کانفرنس اور دوسری بار مسلم لیگ ن کے ذریعے کونسل ممبر بننے کے بعد وہ اس کشمکش میں ہیں مسلم کانفرنس جوائن کریں یا ن لیگ میں ہی رہیں،یادونوں سے دستبردار ہوکر تحریک انصاف کا رخ کرتے نئی صف بندی کریں تاہم ان کے بھی تحریک انصاف قیادت سے رابطے موجود ہیں،مارچ اور اپریل آزاد جموں کشمیر کی سیاست میں بھونچال لاسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں