آزاد کشمیر میں ایک غیر رجسٹرڈ تنظیم نے سود کا کاروبار شروع کر دیا، کئی گھرانے لٹ گئے.

میرپور(بیورو رپورٹ) نیشنل رورل سپورٹ پروگرام نے سودی کاروبار کو آزاد کشمیر بھر میں جگہ جگہ پھیلا دیا، آزاد کشمیر کی عوام کو 28 فیصد کے حساب سے شرح سود پر قرضہ ملنے لگا، سودی کاروبار میں کئی گھرانے لٹ گئے، محکمہ داخلہ آزاد کشمیر میں این آر ایس پی غیر رجسٹرڈ، این آر ایس پی نے آزاد کشمیر میں مائیکرو فنانس بنک بھی کھول لیا،تفصیلات کے مطابق این آر ایس پی کا تنظیمی لبادا سود خور غیر قانونی سر گرمیاں آزاد کشمیر میں جاری ہیں یہ تنظیمی لبادا ایسٹ انڈیا کمپنی کی باقیات کا حصہ ہے اور ریاست۔کے اندر ایک خفیہ ریاستی نظام بنارکھا ہے غریب سفید پوشوں سے 28%خفیہ سود در سود اور قرضہ جات کی تاخیر میں 300روپے فی چکر لیتی آئی اور ملنے والی ڈونیشن کا بیشتر حصہ سودی کاروبار میں گیا جو جاری ہے مگر ذمہ داروں کی خاموشی کئی ایک سوالات جنم لیتی ہے قبل ازیں ایسی بیسوں شکایات کا چلن رہا مگر مجال ہیکہ حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکر غیر قانونی بلا این او سی خلاف قانون غیر ریاستی NRSP مافیا پر گرفت ،این آر ایس پی نے غربت مکاؤ پروگرام کے لبادے میں رورل سیکٹر کے اندر اور ایل او سی آبادیوں میں خفیہ سود در سود کا کاروبا شروع کر رکھا ہے جو 26 سالوں سے جاری ہے جب سود عام ہوجائے تو آسمانی بلائیں اترتی ہیں این آر ایس پی یعنی نیشنل رورل سپورٹ پروگرام نے ﷲتعالیٰ سے سود کی جنگ کر رکھی ہے اور خود ربالعزت کا فرمان ہیکہ ﷲ کی مدد کرو سود کو سرے فہرست۔رکھا ہؤا ہے ﷲتعالیٰ کے خلاف کی جانے والی جنگ کے خلاف ہونا فرض ہے اربوں روپے سود کی مد میں غریب لوگوں سے سوشل ویلفیئر کی آڑ میں جا چکے۔ہیں این آر ایس پی نے آزاد کشمیر میں مائیکرو فنانسنگ کا کام۔1992-93 سے شروع کر رکھا ہے یہ مافیا تنظیمی لبادہ پاکستان سمیت آزاد کشمیر کے مفاد میں نہیں ہے یکسر اسپر بین کرنا ناگزیر ہوچکا ہے اور یہ کسی بھی دوسرے نام سے نہیں رہنی چایئے شنیدمیں جو آیا ہیکہ سوشل ویلفیئر مظفر آباد میں سود خور 26 سالوں کیبعد noc کے لیئے قدم پوشی میں ہے اور عوام کو مذید بیوقوف بنایا جا رہا ہے NRSP تنظیم کو شاید کبوتر کی آنکھیں لگی ہیں اسی ریاست کے ادارہ رحسٹرار آزاد حکومت نے اس مافیا کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے اور ریاست کی یہ وہ انتظامیہ ہے جسکی فرض شناسی قابل تحسین بھی ہے اور ریاست جموں وکشمیر میں ایسے خوف خدا رکھنے والوں اور قانون پر عملدرآمد۔کرنے والے موجود ہیں جو مگر مچھوں کے اشک دیکھکر NRSP کی معصومانہ باتوں پر قائل ہو کر NRSP کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے nrsp نے ریاست کے اندر 26 سال غیر قانونی گزارہ ہے اور قانون کی دھجیاں اوڑائ ہیں آزاد کشمیر احتساب بیورو کے پاس کافی بڑے ثبوت موجود ہیں مگر جو رفتار ہے اسپر ایک سوالیہ نشان ہے آزاد کشمیر کے اعلیٰ حکام کو ایک بار پھر باور کرایا جاتا ہے کہ این آر ایس پی کا کنٹرول علاقہ پاکستان سے ہے اور آزاد کشمیر میں کوئ قانونی دفتر نہیں ہے اور یہ۔مافیا بین الاقوامی26 اداروں سے تعلق رکھتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں