کرائے کے دانشوربھرتی کرنے والوں کا المیہ

طاہر نعیم ملک
میں ایک یونیورسٹی ٹیچر ھوں میں نے اپنا ضمیر چھوٹے موٹے مفادات کے آگے گروی رکھ دیا ھے میں بین الاقوامی سیاست پڑھاتا ھوں علم اجالا اور روشنی ھے مگر میری آنکھوں کے آگے جالا ھے میں مفادات کے پنجرے میں قید ھوں میں تحقیق ایک گریڈ سے دوسرے میں ترقی پانے کے لئے کرتا ھوں ایچ ای سی کی جنم دی ہوئی بے مقصد نام نہاد ریسرچ پیپر کی دوڑ میں شامل ہوں.
جو طلبہ میرے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رھے ہیں ان کی تحقیق مشترکہ مصنف کے طور پر تحقیقی جریدوں میں شائع کروا کر اپنی تحقیقی کامیابی گردانتا ہوں.
بھلا ھو ھائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کا کہ جس میں پی ایچ ڈی ایم فل کی ڈگری کے حصول کے لئے طلبہ کا اپنی تحقیق کو جریدوں میں شائع کرنا ضروری قرار دیا گیا ھے.
اب بیچارہ طالب علم کہاں سے یہ مضامین شائع کروائے گا. نہ اسی کی جان پہچان ھے اور نہ اثر و رسوخ لہذا وہ میرا نام بھی بطور مصنف شامل کرنے پر مجبور ھے. تحقیقی رسائل ان مضامین کو شائع کرنے کے عوض پیسے بھی لیتے ہیں جو طلبہ کو ھی ادا کرنے ھوتے ہیں کیونکہ ان مضامین کے شائع ھونے کے عوض ڈگری ملنے کی شرط طلبہ کے لیے ھے میرے لئے نہیں.
ان تحقیقی جریدوں کے مدیر انجمن ستائش باھمی کے ممبران ہیں.
میں دوسری یونیورسٹی کے دوستوں کے مضامین اپنی یونیورسٹی کے رسالے میں شائع کرتا ھوں تو وہ اپنی یونیورسٹی کے رسالے میں میرے مضامین شائع کرتے ھیں وہ مجھے دوسرے شہر میں ھونے والے کانفرنسوں میں بلاتے ھیں تو میں انہیں اپنی یونیورسٹی میں ھونے والی کانفرنس میں مدعو کرتا ھوں.
جامعات میں تعلیمی معیار تنزلی کا شکار ھے. ھر حکومت اعلیٰ تعلیم کا بجٹ کم کرتی جا رھی ھے.
جامعات ھر سال فیسوں میں بلا جواز اضافہ کئے جارھی ہیں.
غریب محنت کش طبقے پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کئے جارھے ہیں.
ریاست نے عوام کو تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری سے منہ موڑ رکھا ھے. طبقاتی نظام تعلیم میں غریب لوگوں کے لیے تعلیم کے ذریعے طبقاتی معاشی ترقی اب ایک ذریعہ نہیں رھی.
یونیورسٹی میں طلبہ اپنے حقوق سے محروم ہیں انہیں یونیورسٹی میں ان سے متعلق پالیسیوں کے بارے میں بھی رائے لینے کے بھی قابل نہیں سمجھا جاتا.
ان کے حقوق پامال کرکے ھم انہیں اقبال کا شاھین بنانا چاھتے ہیں.
مادی تعلیم کے ساتھ ساتھ روحانیت کی ڈوز بھی بڑھانے کے ھم خواہشمند ہیں.
لیکن میرا ان باتوں سے کیا لینا دینا مجھے تو تنخواہ بروقت مل رھی ھے.

میں دانشورانہ بددیانتی کا شکار ھوں اگر فوج کے زیر انتظام چلنے والی یونی ورسٹیوں میں لیکچر دینے جاتا ھوں تو انہیں خوش کرنے کے لئے ریاست کے بیانیہ کی نہ صرف تعریف کرکے اپنے جذبہ حب الوطنی کی ستائش کراوتا ھوں بلکہ ریاست کے اس بیانیہ کو مقدس بھی گردانتا ھوں اور جب غیر ملکی این جی او مجھے سیمنار میں بلاتے ہیں تو خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی پر پاکستان کے موقف پر غیر ملکی ایجنڈے کے تحت تنقید کرتا ھوں ۔اخر میں نے تحقیق کے لئے فارن فنڈنگ جو لینی ھے اور پھر یورپ امریکہ کے دورے بھی کرنے ھیں۔
میں سیاسیات بین الاقوامی سیاست کا پروفیسر ھوں لیکن میں پاکستان کے عوام کے لئے جمہوریت کے حق میں نہیں آئین کو ریاست کے لئے ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ سیاستدان کرپٹ ہیں اور فوج ھی وہ واحد ادارہ ھے جس کی وجہ سے ریاست قائم و دائم ھے.
لہذا جمہوریت انسانی حقوق کی پامالی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی سربلندی بھاڑ میں گئ بھائی مجھے ریاست مخالف بیانیہ کا ساتھ نہیں دینا.
کل تک میں جغرافیائی گہرائی افغانستان کی جنگ میں غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بننا اولین قومی مفاد میں گردانتا تھا اور آج ملک کے ہر مسئلہ کا حل سی پیک کے منصوبے کی کامیابی سے جڑا دیکھتا ھوں ۔
کل دفاع پاکستان کونسل اور دیگر غیر ریاستی عناصر پاکستان کے دفاع کی ڈھال تھے اور ریاست کے دفاع کے لئے میں انہیں دفاع کی صف اول گردانتا تھا.
تو آج مری رائے ھے کہ یہ غیر ریاستی عناصر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے ذریعے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرکے دنیا کی نظروں میں ناکام ریاست ثابت کرنا چاہتے ہیں.
اگر میں کسی ٹی وی چینل پر بطور دفاعی تجزیہ کار مدعو کیا جاؤں تو میں پہلے پروگرام کے اینکر سے پوچھ لیتا ھوں کہ جس موضوع پر پروگرام ہونے جارھا ھے اس پر حکومت کی حمایت کرنی ھے یا مخالفت.
اور ان پروگراموں میں وقت نکال کر شرکت کرنا اس لئے بھی ضروری ھے کہ آجکل ٹیوشن کا زمانہ تو رھا نہیں میرے یو ٹیوب چینل پر فالوورز کی تعداد بھی تو بڑھانی ھے کیونکہ ھر ماہ اس سے چند سو ڈالر آمدنی بھی تو حاصل ھوجاتی ھے.
طاہر نعیم ملک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں