قصہ یوسف رضا گیلانی کے سینٹ انتخاب لڑنے کا

تحریر طاہر نعیم ملک
قمر زمان کائرہ سے ملاقات ھوئی تو دریافت کیا کہ سینٹ انتخابات میں کیا ھونے جارھا ھے کیا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کامیاب ھوسکیں گے تو کائرہ کہنے لگے کہ گذشتہ شب گیلانی صاحب سے ملاقات ھوئی تو کہنے لگے کہ ان کے بطور سینٹر امیدوار بننے کے بعد عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے نمائندے اور مشیر خزانہ جو اراکین اسمبلی کو کسی خاطر میں نہ لاتے اب چاروں صوبوں کا دورہ کرکے اراکین اسمبلی سے ووٹ مانگ رھے.
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ھوئے ہیں جنوبی پنجاب سے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کررھے ہیں ان کے شکوہ و شکایات پر کان دھر رھے ہیں.
انتظامی آرڈر پاس کر رھے ہیں.
وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں اپنے چیمبر میں اراکین قومی اسمبلی کے لئے دستیاب ہیں ان کے وفود سے ملاقاتیں جاری ہیں.
یوسف رضا گیلانی نے اس پر کہا کہ وہ ابھی نو عمر تھے کہ 1970 کے انتخابات سے قبل پیپلزپارٹی کی جب بنیاد رکھی گئی تو کسی نے یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ ذوالفقار علی بھٹو سانگھڑ سے پیر صاحب پگاڑا شریف کے مقابلے پر انتخابات لڑیں گے بس پھر کیا تھا ھلچل مچ گئی پیر صاحب پگاڑا شریف عوامی شخصیت نہ تھے سال میں ایک دفعہ مریدوں کو دیدار دیتے تو سونے چاندی اور نذرانے کے ڈھیر لگ جاتے.
اس خبر کے بعد پیر صاحب عوام میں جلوہ افروز ھوئے دکھائی دینے لگے اس پر بھٹو صاحب نے کہا چلو اور کچھ ہوا نہ ہوا چلو پیر صاحب کا عوام میں دیدار تو عام ہوا.
لہذا گیلانی صاحب کا بھی کہنا تھا کہ ھار جیت تو اللہ تعالیٰ کے ھاتھ میں ھے انسان کا کام کوشش کرنا ہے لیکن اسی بہانے اراکین اسمبلی کو حفیظ شیخ اور وزیر اعظم عمران خان کا دیدار تو نصیب ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں