چیف الیکشن کمشنر عبدالرشید سلہریا کا 30 جولائی سے قبل آزاد جموں کشمیر انتخابات کےانعقاد کا اعلان۔


اسلام آباد (سخاوت سدوزئی)چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) عبدالرشید سلہریا نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں آئندہ عام انتخابات کیلئے شیڈول کا اجراء یکم جون کے بعد کیا جائے گا جبکہ 30جولائی سے قبل عام انتخابات کا انعقاد کروا دیا جائے گا، انتخابات میں سیکیورٹی کے لئے رینجرز کی خدمات لیں گے،اپریل کے آخر تک آزاد کشمیر کے انتخابی حلقوں کی انتخابی فہرستوں کو حتمی شکل دیدی جائے گی،انتخابی شیڈول کے بعد صرف وزیراعظم آزاد کشمیر اپنے سرکاری امور کیلئے سرکاری وسائل استعمال کرسکے گا،باقی تمام وزراء سے یہ اختیارات الیکشن کمیشن یا چیف سیکرٹری کو منتقل ہوجائیں گے،وزیر اعظم پاکستان یا اعلی حکومتی شخصیات سرکاری ہیلی کاپٹر یا گاڑی انتخابی مہم کے لئے استعمال نہیں کرسکیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے یہاں میڈیا نمائندوں سے دوران گفتگو کہا کہ موجودہ اسمبلی کی حلف برداری 30 جولائی کو ہوئی تھی اس لئے 30 جولائی سے قبل نئے انتخابات کا انعقاد کروا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 18 مارچ کو آزاد کشمیر کی انتخابی فہرستیں نظرثانی کیلئے متعلقہ حکام کے پاس بھجوائیں جائیں جہاں ان پر اعتراضات داخل کئے جاسکیں گے جبکہ اپریل کے آخر تک یہ حتمی فہرستیں شائع کردی جائیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل میں انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے بعد اس کا فیصلہ کرنے کیلئے چھ ماہ کی مدت رکھی گئی ہے تاہم ان عذر داریوں پر سینکڑوں کی تعداد میں گواہوں کے نام دیئے جاتے ہیں جن کے بیانات کیلئے ہی ایک طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حاضر سروس ججز کو بطور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسران تعینات کیا جاتا ہے باقی انتخابی عملہ ڈی آر او کی صوابدید ہے تاہم وہاں موقع پر کسی بھی انتخابی عملے کے فرد پر اعتراض داخل کیاجا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کی سیکورٹی کے حوالے سے جو ڈیمانڈ ہوگی وہ اسے مہیا کریں گے اس میں پولیس، ایف سی اور رینجرز شامل ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے موقع پر سیکورٹی کی ذمہ داریاں پاک فوج کے حوالہ کرنے کا فیصلہ حالات دیکھ کر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان سمیت کوئی بھی اعلی حکومتی شخصیت شیڈول کے بعد آزاد کشمیر میں سرکاری وسائل استعمال نہیں کرسکے کی۔وہ پرائیویٹ گاڑی پر اپنی مہم چلا سکتے ہیں لیکن سرکاری ہیلی کاپٹر یا سرگاڑی گاڑی پر مہم میں شریک نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس حوالے سے احکامت جاری کرتا ہے اس پر عمل کروانا انتظامیہ کا کام ہے۔مہاجر مقیم پاکستانیوں کے حلقوں میں انتخابی عملہ الیکشن کمیشن پاکستان سے لیا جاتا ہے۔اس وقت مہاجرین کے حلقوں کے حوالے سے حکم امتناعی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں