فاروق طاہر،نجیب نقی،راجہ نثار سمیت الیکٹیبلز کی انتہائی محدود تعداد کی مسلم کانفرنس میں واپسی کی تیاریاں۔


اسلام آباد(سخاوت سدوزئی)مسلم کانفرنس کو ن لیگ کے الیکٹیبلزکی انتہائی محدود تعداد ملنے کا امکانات،غالب اکثریت آزادانہ حیثیت سے میدان میں اترکر آمدہ اسمبلی میں شراکت اقتدار کی خواہاں،انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق بلوچ سے سردار فاروق احمد طاہر،پلندری سے ڈاکٹر سردار نجیب نقی،کھوئیرٹہ سے راجا نثار احمد، نکیال فاروق سکندر کی مسلم کانفرنس میں واپسی کی تیاریاں کر لی ہیں،جبکہ غالب ن اکثریت ن لیگ ،مسلم کانفرنس اور پیپلز پارٹی کے بجائے آزادانہ میدان میں اترے گی،مسلم کانفرنس ،ن لیگ اور پی پی میں سابق وموجودہ ممبران پارلیمان اوراہم راہنمائوں طارق فاروق ،شاہ غلام ،چوہدری سعید،علی شان سونی،خواجہ طارق سعید،چوہدری یاسین گلشن،سردار فواد،چوہدری رخسار،صدیق بٹلی،افسرشاہد،چوہدری شہزاد،مختار عباسی،چئیرمین سردار الطاف سمیت غالب اکثریت آزادانہ حیثیت سے میدان میں اترنے کی کوشش میں ہے،آزاد انہ انتخابات میں حصہ لینے والے دھڑے کوجہانگیر ترین اور اہم وفاقی وزراء کی حمایت حاصل ہے جو آزاد جموں کشمیر کے سیاسی منظر نامے میں بھیانک تبدیلیوں کے خواہاں ہیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت آزاد جموں کشمیر میں آزادانہ حیثیت یا کسی پارٹی سے اتحاد کے ساتھ میدان میں اترنے کا سینٹ انتخابات اور پاکستان میں سیاسی خلفشار کے باعث تاحال فیصلہ نہ کرسکی،ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آزاد جموں کشمیر میں آمدہ انتخابات میں پاررٹی کی حکومت بنانے کے لیے تمام تر معاملات خود دیکھ کر فیصلہ کریں گے،اس ضمن میں چار اہم وفاقی وزراء کو آزاد جموں کشمیر کی انتخابی سیاست کا بغور مشاہدہ کرکے رپورٹ لی جائے گی،اس کے بعدحتمی فیصلے کیے جائیں گے،کرپشن اور قبضہ مافیا میں ملوث افراد کے بجائے صاف ستھرے اور اچھی ساکھ کے حامل امیدواران کی ماضی اور حال کے سیاسی بیک رائونڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹکٹس جاری کیے جائیں گے،جن کی ابتدائی فہرست تیار کی جاچکی ہے،بدلتے موسم کے ساتھ آزاد جموں کشمیر کا سیاسی موسم بھی بدلتا نظر آرہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے آزاد جموں کشمیر میں تحریک انصاف کو مخدوش حالات میں لانچ کرنے والے سابق بانی سیکرٹری جنرل سردار بابر حسین اپنی جماعت جموں کشمیر یونائٹڈ موومنٹ کو آزاد جموں کشمیر کے 33 حلقہ جات اور جموں کشمیر مہاجرین کے 12 حلقہ جات میں “بنیادی جمہوریت یعنی بلدیاتی انتخابات عام انتخابات ایک ساتھ” کے سلوگن کے ساتھ لانچ کرکے نئی قیادت سامنے لانے کے لیے اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ،اس ضمن میں تمام حلقہ جات میں سیمینارز منعقد کیے جارہے ہیں جن میں بنیادی جمہوریت سے آگہی اور شعور کے ساتھ ساتھ طاقت کا حقیقی سرچشمہ عوام کے ہاتھ میں دینے کا عملی تصور پیش کیا جارہا ہے،بلدیاتی انتخابات عام انتخابات ایک ساتھ کی بحث مقتدر حلقوں میں جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں