آزادکشمیر آئی ٹی ملازمین کے گھروں میں فاقے، گزشتہ 8 ماہ سے تنخواہیں جاری نہ ہو سکیں۔

مظفرآباد(لیاقت بشیر فاروقی سے)
26 ہزار بچوں کو جدید آئی ٹی کے زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والے 456 آئی ٹی ملازمین کے ساتھ حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے مسلسل نا انصافی جاری۔13ویں ترمیم کے بعد مالی طورپر”خود مختار” ہونے والی آزاد حکومت کا مسئلہ یہ ہےکہ اسکے پاس 26 ہزار بچوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی پڑھانے والے456 اساتذہ کیلئےگذشتہ 8 ماہ سے تنخواہوں کیلئے پیسے نہیں ہیں جسکی وجہ سے اساتذہ خوار ہو کر رہ گئےہیں۔استاتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں تنخواہیں نہیں مل رہیں۔
مالی طور پرخود مختاری والی بات لالی پاپ ہے یا پھر سرکاری وسائل کا استعمال ناانصافی کی بنیاد پر ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہے؟گزشتہ آٹھ ماہ سے آئی ٹی ملازمین آزادکشمیر اپنی تنخواہ سے محروم انصاف کے حصول کے لیے سڑکوں پر دھکے کھاتے پھر رھے ھیں۔

آزاد کشمیر کے وزراء کے دفتروں کے چکر لگا رہے ہیں۔ بیوروکریسی کے پاس اپنے انصاف کے حصول کے لیے جا رہے ہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت آزاد کشمیر کے وعدوں کے باوجود ابھی تک نہ ہی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی ہوسکی اور نہ ہی ان کو نارمل بجٹ پر منتقل کر کے ان کا کوئی مستقل حل نکالا جا سکا۔یاد رہے کہ یہ 456 آئی ٹی ملازمین آزاد کشمیر بھر میں 372 تعلیمی اداروں میں اپنا کام ایمانداری سے سر انجام دے رہے ہیں۔26 ہزار گورنمنٹ سکول کے غریب بچے ان سے کمپیوٹر کی جدید تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان تعلیمی اداروں میں جو کمپیوٹر کی جدید لیبز بنی ہوئی ہیں ایک لیب کےاوپر بیس لاکھ روپے مالیت کا خرچہ آیا ہے۔

بچوں کے اندر کمپیوٹر کی جدید تعلیم حاصل کرنے کا جو جوش جذبہ اور جنون ہےاس کو سوشل میڈیا کے اوپر آپ نے خود دیکھ لیا ہے۔۔لیکن ہماری حکومت نے آئی ٹی بورڈ کے ملازمین جن میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے کہ دھرنوں احتجاج کو بھی ذراء بھر اہمیت نہ دی، کروڑوں روپیہ کی فارچون / پراڈو گاڑیاں تو اپنے وزراء اور سیکرٹریز کیلئے ہر ماہ خرید کی جا رہی ہیں، اپنے وزراء اور سرکاری اراکین اسمبلی کو الیکشن سے قبل 9/9 کروڑ روپیہ لوکل گورنمنٹ سے جعلی منصوبہ جات کے نام پر دینے کیلئے فنڈز کا بندوبست کر دیا گیا ہے لیکن آئی ٹی بورڈ کے 456 ملازمین کو نہ تو آٹھ ماہ سے تنخواہ اور نہ ہی ملازمتوں پر بحال کر کے اپنے ہی وعدے پورے کئے گئے ہیں۔

یہ ظلم اور یزیدیت پر مبنی حکومت کا ہی کام ہے۔آٸ ٹی ملازمین نے چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان 456 آئی ٹی بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور اس شعبہ کو سرکاری سکولوں میں دوبارہ فعال کرنے کاانتظام کریں کہ اب ان جانے والے سیاسی افراد سے عوام، ملازمین کو ذراء بھی امید نہ رہی ہے۔لہذا گورنمنٹ آف آزاد کشمیر کو آٹی ٹی ملازمین براہ راست پیغام دے رہے ہیں کہ
اگر ایک ہفتے کے اندر 456 آئی ٹی ملازمین 26 ہزار بچوں کا معاملہ حل نہ ہوا تو 26 ہزار بچے 456 آئی ٹی ملازمین اور بچوں کے والدین انصاف کے حصول کے لیے کفن پہن کر سڑکوں پر تادم مرگ احتجاج کریں گے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں