شبِ برأت کی اہمیت و فضیلت قرآن و سنت کی روح سے

اسلام آباد (ڈبلیو این این)
آج کادن :اتوار (الأحد)
🗓 28 مارچ2021عیسوی🇵🇰

🌙13 شعبان المعظم1442 ہجری
📚 درس قرآن وحدیث شریف📖
🌷نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ
النبی الکریم ﷺ 🌷
بسم ﷲ الرحمن الرحیم  
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات کو جو خاص عمل فرماتے، ذیل میں ان کو بیان کیا جارہا ہے:

1۔ کثرتِ دعا اور گریہ و زاری

اس رات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے دعائیں کرتے اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں گریہ کناں ہوتے تھے۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ شعبان المعظم کی 15 ویں رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سجدے میں یہ دعا کر رہے تھے:

سَجَدَ لَکَ خَیَالِي وَسَوَادِي، وَآمَنَ بِکَ فُؤَادِي، فَهٰذِهٖ یَدِي وَمَا جَنَیْتُ بِهَا عَلٰی نَفْسِي، یَا عَظِیْمُ، یُرْجٰی لِکُلِّ عَظِیْمٍ، یَا عَظِیْمُ، اغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِیْمَ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهٗ وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ.

’’(اے اللہ!) میرے خیال اور باطن نے تجھے سجدہ کیا، تجھ پر میرا دل ایمان لایا، یہ میرا ہاتھ ہے اور میں نے اس کے ذریعے اپنی جان پر ظلم نہیں کیا، اے عظیم! ہر عظیم سے امید باندھی جاتی ہے، اے عظیم! بڑے گناہوں کو بخش دے۔ میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اس کی تخلیق کی اور اس کی سمع و بصر کی قوتوں کو جدا جدا بنایا۔‘‘

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سرِ انور اٹھایا اور دوبارہ سجدے میں گر گئے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے لگے:

أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ، لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ، أَقُوْلُ کَمَا قَالَ أَخِي دَاوُدُ، أَعْفُرُ وَجْهِي فِي التُّرَابِ لِسَیِّدِي، وَحَقٌّ لَهٗ أَنْ یُسْجَدَ.

’’(اے اللہ!) میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، تیرے عفو کے ذریعے تیرے قہر سے پناہ مانگتا ہوں اور میں تیرے ذریعے تجھ ہی سے (یعنی تیری پکڑ سے) پناہ مانگتا ہوں، میں اس طرح تیری ثنا کا حق ادا نہیں کر سکتا جیسا کہ تو نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، میں ویسا ہی کہتا ہوں جیسے میرے بھائی حضرت داؤد نے کہا، میں اپنا چہرہ اپنے مالک کے سامنے خاک آلود کرتا ہوں، اور وہ حق دار ہے کہ اس کو سجدہ کیا جائے۔‘‘

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سرِ انور اٹھایا اور عرض کیا:

اَللّٰهُمَّ، ارْزُقْنِي قَلْبًا تَقِیًّا مِنَ الشَّرِّ نَقِیًّا لَا جَافِیًا وَلَا شَقِیًّا.

’’اے اللہ! مجھے ایسا دل عطا فرما جو ہر شر سے پاک، صاف ہو، نہ بے وفا ہو اور نہ بدبخت ہو۔‘‘

(بیهقي، شعب الإیمان، 3/385، رقم/3838)

2۔ شبِ برأت کو جاگنا اور صبح روزہ رکھنا

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا کَانَتْ لَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُوْمُوْا لَیْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا، فَإِنَّ ﷲَ یَنْزِلُ فِیهَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ إِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا، فَیَقُوْلُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهٗ، أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهٗ، أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِیَهٗ، أَلَا کَذَا أَلَا کَذَا حَتّٰی یَطْلُعَ الْفَجْرُ.

’’جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو اس رات کو قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات سورج غروب ہوتے ہی (اپنی شان کے لائق) آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور فرماتا ہے: کیا کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا نہیں کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کیا کوئی مجھ سے رزق طلب کرنے والا نہیں کہ میں اسے رزق دوں؟ کیا کوئی مبتلائے مصیبت نہیں کہ میں اُسے عافیت عطا کر دوں؟ کیا کوئی ایسا نہیں؟ کوئی ایسا نہیں؟ (اسی طرح ارشاد ہوتا رہتا ہے) یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔‘‘

( سنن ابن ماجه، باب ما جاء في لیلة النصف من شعبان، 1/444، رقم: 1388)

3۔ قبرستان جانا اور جمیع مسلمانوں کیلئے بخشش کی دعا کرنا

مسلمانوں کو چاہیے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پر بھی توبہ کریں اور اپنے والدین، اساتذہ و رشتہ داروں کے لیے بھی اِستغفار کریں اور یہ عمل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی طویل حدیث مبارکہ بیان ہو چکی جس میں آپ نے بیان فرمایا:

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے کسی حصے میں اچانک ان کے پاس سے اٹھ کر کہیں تشریف لے گئے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنت البقیع میں مومنین ومومنات اور شہداء کے لیے بخشش و استغفار کی دعا کرتے پایا۔‘‘

اس حدیث مبارکہ سے تین باتیں ثابت ہوئیں:

شبِ برأت کو اُٹھ کر عبادت کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِ خاص صرف عبادت نہیں کی بلکہ اس رات مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع بھی تشریف لے گئے۔

قبرستان جانا اور وہاں تمام مسلمانوں کے لیے بخشش و مغفرت کی دعا کرنا بھی سنت ہے۔

شعبان کی پندرہویں شب کے بارے میں وارد ہونے والی اَحادیث مبارکہ کے مطالعہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس مقدس رات قبرستان جانا، کثرت سے اِستغفار کرنا، شب بیداری اور کثرت سے نوافل ادا کرنا اور اس دن روزہ رکھنا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولاتِ مبارکہ میں سے ۔

شبِ برأت کے اعمال اور دعائیں

مذکورہ بالا دعائوں کے ساتھ ساتھ اس رات درج ذیل دعا پڑھنا بھی مستحب ہے:

1. اَللّٰهُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ، تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي.

’’اے اللہ! تُو بہت معاف کرنے والا اور کرم فرمانے والا ہے۔ عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے۔‘‘

(ترمذی، السنن، کتاب الدعوات، 5/534، رقم/3513)

2۔ شعبان کی 15 ویں شب میں سورۃ بقرہ کا آخری رکوع اکیس مرتبہ پڑھنا امن و سلامتی اور حفاظت جان و مال کے لیے بہت مفید ہے۔

3۔ فراخی رزق کے لیے دعا: امام غزالی اِحیاء علوم الدین میں فرماتے ہیں کہ شبِ برأت کی رات لوگ یہ دعا (کثرت سے) پڑھتے ہیں:

صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو بندہ یہ دعا پڑھے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی معیشت (رزق) میں وسعت عطا فرماتا ہے۔

{(اَللّٰهُمَّ) یَا ذَا الْمَنِّ، وَلَا یُمَنُّ عَلَیْکَ، یَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ، یَا ذَا الطَّوْلِ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ، ظَهْرُ الاَّجِئِیْنَ، وَجَارُ الْمُسْتَجِیْرِیْنَ، وَمَأْمَنُ الْخَائِفِیْنَ، (اَللّٰهُمَّ،) إِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِي فِي أُمِّ الْکِتَبِ عِنْدَکَ شَقِیًّا فَامْحُ عَنِّي اسْمَ الشَّقَاءِ۔ وَأَثْبِتْنِي عِنْدَکَ سَعِیْدًا، وَإِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِي فِي أُمِّ الْکِتَابِ مَحْرُوْمًا مُقَتَّرًا عَلَيَّ رِزْقِي فَامْحُ عَنِّي، حِرْمَانِي وَتَقْتِیْرِ رِزْقِي، وَاثْبِتْنِي عِنْدَکَ سَعِیْدًا مُوَفَّقًا لِلْخَیْرِ، فَإِنَّکَ تَقُوْلُ فِي کِتَابِکَ {یَمْحُوا اﷲُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُج وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِ.}

’’(اے اللہ!) اے احسان کرنے والے کہ تجھ پر احسان نہیں کیا جاتا! اے بڑی شان وشوکت والے! اے فضل والے! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پریشان حالوں کا مددگار ہے، پناہ مانگنے والوں کو پناہ دینے والا ہے اور خوفزدوں کو امان دینے والا ہے۔ (اے اللہ!) اگر تو مجھے اپنے پاس اُمُّ الکتاب (لوح محفوظ) میں شقی (بدبخت) لکھ چکا ہے، تو (اے اللہ!) میرا نام بدبختوں میں سے مٹا دے اور مجھے اپنے پاس سعادت مند لکھ دے۔ اگر تو مجھے اپنے پاس اُمُّ الکتاب (لوح محفوظ) میں محروم، رزق میں تنگی دیا ہوا لکھ چکا ہے، تو (اے اللہ!) مجھ سے میری محرومی اور تنگی رزق کو دور فرما دے اور (اپنے فضل سے) مجھے اپنے پاس اُمُّ الکتاب میں مجھے خوش بخت اور بھلائیوں کی توفیق دیا ہوا ثَبت (تحریر) فرما دے۔بے شک تو اپنی کتاب (قرآن مجید) میں فرماتا ہے:{اﷲ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ) ہے}۔‘‘

(ابن ابی شیبة، المصنف، 6/68، رقم/29530)

4۔ صلاۃ الخیر (شب برأت کی نماز): شبِ برأت میں ایک سو رکعات (نفل) نماز اس طرح ادا کی جائے کہ اس میں سورۃ فاتحہ کے بعد ایک ہزار مرتبہ سورۃ اِخلاص {قُلْ هُوَ اﷲُ اَحَدٌ} پڑھی جائے۔ (یعنی ہر رکعت میں دس بار سورۃ اِخلاص پڑھیں گے۔) اس نماز کو ’صلوٰۃ الخیر‘ کہا جاتا ہے۔ اس نماز کی بہت زیادہ برکت ہے۔ پہلے زمانے کے بزرگ یہ نماز باجماعت ادا کرتے تھے اور اس کے لیے جمع ہوتے تھے اس کی فضیلت زیادہ اور ثواب بے شمار ہے۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’مجھ سے تیس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیان فرمایا کہ جو شخص شبِ برأت کی رات یہ نماز پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف ستر بار (نظرِ) رحمت فرماتا ہے اور ہر نظر کے بدلے اس کی ستر حاجات پوری کرتا ہے۔ سب سے کم درجے کی حاجت مغفرت ہے۔‘‘

(عبد القادر الجیلانی، غنیة الطالبین/450)

شبِ برأت کا پیغام

شبِ برأت کو جب رحمت الٰہی کا سمندر طغیانی پہ ہو تو ہمیں بھی خلوص دل سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے مگر یہ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ شبِ برأت کی اس قدر فضیلت و اہمیت اور برکت وسعادت کے باوجود ہم یہ مقدس رات بھی توہمات اور فضول ہندوانہ رسومات کی نذر کر دیتے ہیں اور اس رات میں بھی افراط و تفریط کا شکار ہو کر اسے کھیل کود اور آتش بازی میں گزار دیتے ہیں۔ من حیث القوم آج ہم جس ذلت و رسوائی، بے حسی، بدامنی، خوف و دہشت گردی اور بے برکتی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اس سے چھٹکارے اور نجات کی فقط ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ کہ ساری قوم اجتماعی طور پر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مغفرت طلب کرے اور اس رات کو شبِ عبادت، شبِ توبہ اور شبِ دعا کے طور پر منائے۔

قیام اللیل اور روزوں کی کثرت ہی ہمارے دل کی زمین پر اُگی اُن خود رَو جھاڑیوں کو اکھاڑ سکے گی جو پورا سال دنیاوی معاملات میں غرق رہنے کی وجہ سے حسد، بغض، لالچ، نفرت، تکبر، خودغرضی، ناشکری اور بے صبری کی شکل میں موجود رہتی ہیں۔ اسی صورت ہمارے دل کے اندر ماہ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں کو سمیٹنے کے لیے قبولیت اور انجذاب کا مادہ پیدا ہو گا۔

لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ماہ شعبان المعظم، عظیم ماہ رمضان المبارک کا ابتدائیہ اور مقدمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ مبارک کے اندر محنت و مجاہدہ اور ریاضت کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم ’’اَلصَّوْمُ لِي وَاَنَا اَجْزِي بِهٖ‘‘ کے فیض سے صحیح معنوں میں اپنے قلوب و اَرواح کو منور کر سکیں اور اِن مقدس اور سعید راتوں کی برکت سے اﷲ تعالیٰ ہمیںدنیوی و اُخروی فوز و فلاح سے مستفید فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں