کوٹلی نجی ہسپتال کے ڈاکٹر اور عملہ کی غفلت سے مریضہ زندگی اور موت کی کشمکش میں، ورثاء سراپا احتجاج

تتہ پانی (نمائندہ خصوصی)کوٹلی عالم میموریل ہسپتال میں خاتون مریضہ کے گردے کے آپریشن کے دوران ڈاکٹر کی کوتاہی و غفلت برتنے پر مریضہ کی حالت تشویشناک، پمز ہسپتال اسلام آباد میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا، لواحقین کا ڈپٹی کمشنر آفس کو ٹلی کے سامنے احتجاج، ڈپٹی کمشنر کا انکوائری کا حکم۔
تفصیلات کے مطابق تتہ پانی کے نواحی گاؤں بڑجن بنڈہور کی مریضہ لیاقت جان زوجہ محمد ےٰسین نے تقریبا ً دو ہفتے قبل گردے میں پتھری کی وجہ سے عالم میموریل ہسپتال کو ٹلی میں ڈاکٹر انصار ملک سے گردے کا آپریشن کروایا، آپریشن کے بعد مریضہ کو شدید تکلیف ہو ئی، جس پر ڈاکٹر سے رابطہ کیا گیا تو ڈاکٹر نے جواب دیا کہ مریضہ بالکل ٹھیک ہے، تھوڑا بہت درد آپریشن کی وجہ سے ہو جاتا ہے، آپ مریضہ کو گھر لے جائیں، مریضہ ٹھیک ہو جائے گی، یہ کہہ کر ڈسچارج کر دیا، مریضہ شدید تکلیف میں کراہتی رہی، جس پر لواحقین نے اپنے طور پر ایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ کروایا تو پتا چلا کہ اندر کسی وین کے کٹ یا پھٹ جانے کی وجہ سے لیکیج ہو رہی ہے، اور زہریلا مواد جسم کے اندر پھیل گیا ہے، جس سے جسم کا نصف حصہ بہت متاثر ہو گیا ہے، اس کے بعد لواحقین نے اپنی مدد آپ کے تحت افراتفری کے عالم میں مریضہ کو پمز ہسپتال اسلام آباد میں شفٹ کیا، جہاں مزید ٹیسٹ رپورٹ کے بعد پتا چلا کہ ڈاکٹروں کی کوتاہی اور غفلت کی وجہ سے زہریلا مواد پھیل جانے کی وجہ سے مریضہ کی حالت تشویش ناک ہے، اور دوبارہ آپریشن کی ضرورت ہے، پمز کے ڈاکٹرز نے دوبارہ اپریشن کیا، اور اب مریضہ وینٹی لیٹر پر ہیں، اور زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، لواحقین نے ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر احتجاج کے دوران بتایا کہ عالم میموریل ہسپتال میں آپریشن کے بعد کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی، عالم میموریل ہسپتال میں کسی قسم کی سہولت نہیں ہے اور یہ ہسپتال صحت کارڈ کے تحت علاج کرنے والے ہسپتالوں کی فہرست میں بھی شامل ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں