کراچی نالوں کی توسیع پر سیاسی عدالتی و عسکری کردار

تحریر عدنان شیخ

ستمبر 2020 میں جب الله والا ٹاؤن عمارت گرنے کا واقعہ ہوا تھا تب میں نے اپنی تحریر کے زریعے الله والا ٹاون عمارت اور گجر نالہ مکینوں کے ساتھ ہونے والی زیاتیوں کے خدشات کا اظہار کیا تھا مگر بدقسمتی سے معاشرے کی سوچ یہ ہوگئی ہےکہ معتبر و موثر بات صرف بڑی گاڑی میں اعلی عہدیدار اور سرمایہ دار ہی کرسکتا ہے اس لئے اس کی غلط بات کی بھی تہشیر اعلی پائے پر کی جاتی تاکہ اس کی خوشنیدی حاصل کی جاسکے مگر میرے تمام خدشات جن کا میں نے قبل از وقت اظہار کردیا تھا شائد اس وجہ سے کیسی نے میری تحریر پر توجہ نہیں دی کیونکہ نا میرے پاس بڑی گاڑی ہے نا سرمایہ اور نا ہی کوئی بڑا عہدہ مگر آج جن خدشات کا میں نے ستمبر 2020 کی اپنی تحریر میں تذکرہ کیا تھا بالکل ویسا ہی ہو رہا ہے بلکہ اس بھی بڑھ کر ہوا آخیر کار قصووار مکین ہی کو ٹھرایا گیا اور سارا نزلہ غریب محنت کشوں پر گراکر فائل بند ۔
کہاں ہے الله والہ ٹاون لیاقت آباد و دیگر علاقوں میں گرنے والی عمارات کی تحقیقاتی رپورٹ کیسی کو نا کچھ پتا ہے اور نا کوئی پوچھ رہا ناکوئی پوچھنا چاھتا ہے ان عمارتوں میں مرنے والوں کے لواحقین صبر کرکے اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ کر خاموشی اختیار کرگئے کیونکہ وہ جانتے تھے اس ملک الباکستان ریاست مدینہ میں انصاف کا حصول ناممکن عمل ہے اور وہ لواحقین 70 سالہ عدالتی تاریخ سے بھی واقف ہیں کے یہاں کبھی کسی قصوروار کو سزا دی گئی ہوتی تو اس قسم کی تعمیرات میں ملوث ادارتی افسران آزادانہ شاہانہ زندگیاں ناگزارتے بلکہ جیل میں چکی پیستے اگر ایسا ہوا ہوتا تو شائد اس ملک میں اتنے مسائل نا ہوتے اور نا انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا اس ہی طرح گجرنالہ و اورنگی نالہ پربھی ایک عدالتی حکم کو جواز بناکر توڑ پھوڑ کا آغاز کردیا جاتا ہے وہ بھی بنا کیسی پالیسی مرتب کئے عدالتی حکم تجاوزات صاف کرنے کا تھا مگر یہاں ایک سیاسی جماعت کی ذیلی تنظیم جو اداروں میں موجود افسران رینگ پر برجمان ہیں نے اپنے سیاسی مفادات اور یہاں کے مکینوں کو 2018 کے انتخابات میں ووٹ نا دینے پر انتقام کا نشانہ بنایا اور لیز قانونی و تجاوزات سمیت تمام مکانات کو مسمار کرکے شہر کو کچھ اور نئے مسائل کا تحفہ دے دیا تاکہ مستقبل میں ان مسائل کو جواز بناکر سیاسی فائدہ اٹھا لیا جائے گجر نالے تعمیری عمل میں اب تک لگ بھگ 10 سے 15 ہزار مکانات متاثر مسمار ہوچکے ہیں اور تاحال جاری ہے یہ تمام متاثرہ خاندان اکثریت میں کوئی بھی اس شہر سے درکنار اس ضلع سے بھی باہر ریہایش اختیار کرنے نہیں گیا بلکہ قریبی علاقوں میں ہی دوبارہ بس گئے ہیں جس سے پہلے سے موجود ان آباد علاقوں میں موجود آبادی اور انفرااسٹکچر کا بوجھ بڑھ جائیگا پانی سیوریج بجلی گیس ٹرانسپورٹ پارکنگ سمیت دیگر مسائل میں بھی اضافہ ہوگا تو تب کیا آپ ان آبادیوں کو بھی مسمار کردینگے ؟ آئندہ انتخابات میں جب وہ تمام سیاسی جماعتیں جو اس جائز ناجائز قانونی و غیر قانونی مکانات کی توڑ پھوڑ کو پاک فوج سے منسلک کرکے خاموشی اختیار کئے بیٹھی ہیں اپنی جماعت اور اپنے امیدوار کے لئے ووٹ مانگنے آئینگی تب یہ مکین آپ سے سوال کریں گے کے پاک فوج کے ادارے FWO کا تو صرف نالوں کی تعمیر کا کام تھا چاہئے وہ 20 فٹ چوڑائی کا ہو یا 2000 فٹ کا چوڑا ہوتا اس رقبے کا تعین اور اس سے متاثرہ خاندانوں کو نئی جگہ پر بسانے کا کام تو شہری و ضلعی انتظامیہ کی زمہ داری تھی جو کہ انہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے خاطر اور انتقامی نظریہ کے تحت بنا متبادل دیئے بغیر ہمیں بے گھر کیا اور ہمارے لیز قانونی مکانات توڑے تو آپ کیوں چپ رہے کیوں آپ نے ہمارے حق میں آواز نہیں اٹھائی شہری و ضلعی انتظامیہ کی بے ضابطگیوں پر خاموشی سے کیوں بیٹھے ہوئے تھے کیا جواب دیں گئے یہی کہ ان متاثرہ خاندانوں کو کے دوسال بعد وزیراعظم ہاوسنگ اسکیم میں مکان دینگے (اگر دوسال بعد حکومت تبدیل ہوگئی) تب تک آپ 90 ہزار کے چیکز پر گزارا کریں تو سوال بنتا ہے کیا 15 ہزار ماہوار پر کوئی مکان ملتا ہے کیا، متاثرہ لیز قانونی گھر جس میں تین یا چار شادی شدہ بھائی اپنے ماں باپ بیوی بچوں بہن بھائیوں کے ہمراہ سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں کیا ان خاندان (افراد) کو اتنے کم پیسوں میں کوئی مکان مالک اپنا گھر کرائے پر دے گا ؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس تمام تر حالات کے تناظر میں صوبائی حکومت کو اٹھار ویں ترمیم کے تحت مداخلت کرتے ہوئے جیسے کے ملیر اور محمودآباد میں مداخلت کی ویسے ہی گجرنالہ پر کرتی اور یہاں کے مکینوں کی فوری ریاہش کا بندوبست کرواتی اور نقشوں کا بغور معئینہ کرتی کے اس نقشہ میں لیز قانونی کتنے مکانات زد میں آرہے ہیں اور اس کام میں کم سے کم نقصان کیساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں اور اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی جو خالصتا مقامی ہوتی جو وہاں کے اصل حالات سے اداروں کو آگاہی فراہم کرتی اس کے بعد اس توڑ پھوڑ کرنے کے عمل کا آگاز کیا جاتا مگر شومئی قسمت کہ صوبائی حکومت گجر نالہ آپریشن سے لا تعلق نظر آتی ہے اور صرف ضلعی و شہری انتظامیہ کی رپورٹس پر ہی توکل کررہی ہے جو زمینی حقائق سے کوسو دور ہے اور یا وفاقی حکومت اور عدلیہ کو اس کام یعینی کے توڑ پھوڑ کی اتنی جلدی ہی تھی تو ان متاثرہ خاندانوں کو جب تک ان کی ریاہش کا موثر بندوبست نا ہو جاتا گجر و اورنگی نالہ متاثرین کو FC ایریا اور دیگر علاقوں میں موجود سرکاری فلیٹس و سرکاری کواٹرز میں بسا دیا جائے جہاں پرائیویٹ لوگ قابضین ہیں یا سرکاری لوگوں نے ان فلیٹس و کواٹرز کرائے پر دے رکھے ہیں مگر ایسا بھی کوئی حکمنامہ سامنے نہیں آیا محسوس یہ ہوتا ہے کہ اورنگی و گجرنالہ متاثرین شائد پاکستانی نہیں یا یہ علاقے پاکستان کا حصہ نہیں تبھی اس غیر انسانی عمل پر تمام حکومتی سیاسی سماجی عدالتی صحافتی افراد نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے یا پھر عالمی بنک کیجانب سے آنیوالی رقم میں اپنے کمیشن کا انتظار اس خاموشی کی وجہ ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

کراچی نالوں کی توسیع پر سیاسی عدالتی و عسکری کردار” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں