جوبلی انشورنس کمپنی کسٹمرز سے ہاتھ کر گئی، اربوں روپے ضائع ہونے کا خدشہ

میرپور( راجہ قیصر افضل)،آزاد کشمیر بھر کے صارفین کے اربوں روپے ڈوب گئے،ایجنٹوں کی لالچ سالانہ کروڑوں کی اقساط کے بدلے کمیشن مافیا کا راج،انچارج کمپنی لوگوں کی رقوم سے کروڑ پتی بن گیا دفتر سے غائب، لوگوں کی اصل رقم اکاؤنٹس سے غائب،رقم جمع کرواؤ تین گنا منافع دیں گے ، خواجہ نثار کا اکاؤنٹ ہولڈرز کو لالچ،ہماری اصل جمع کرائی گئی رقم سے 35 سے 40 فیصد رقم غائب ہیں ، کمپنی کی رسیدیں دی گئیں ، اندھیرے میں رکھ کر لوٹا گیا، اقساط گھروں سے وصول کی گئیں ، خواجہ نثار اور ایجنٹ برابر کے حصہ دار ہیں ،متاثر ہونے والے لوگوں کا سے بات چیت، سٹاک ایکسچینج میں کسٹمرز کا پیسہ لگایا تھا جس میں نقصان ہوا، مینیجر کمپنی کا موقف،25 سال سے میرپور آفس بغیر رجسٹریشن کے چل رہا ہے ، خواجہ نثار کا خبریں کو موقف دینے میں حیل و حجت سے کام لینا سمجھ سے بالاتر، رکشوں پر سواری کرنے والا گاڑیوں اور کوٹھی کا مالک کیسے بنا، مذید انکشافات جلد خبریں نیوز عوام کے سامنے رکھے گا تفصیلات کے مطابق میرپور میں 25 سالوں سے غیر قانونی طریقہ سے چلنے والی جوبلی کے نام سے انشورنس کمپنی ایجنٹوں کی ملی بھگت سے کسٹمرز کے اربوں روپے ڈکار گئی کسٹمرز جن میں چوہدری اقبال، چوہدری نذیر، ظہور چکسواری ، فاروق کھڑی و دیگر لوگوں نے کو خصوصی طور پر بتایا کہ مختلف عرصے سے جوبلی کمپنی سے انشورنس خرید رکھی ہے ہم نے جب اپنی رقم کی کیش ویلیو کمپنی آفس نانگی میرپور جو رجسٹرڈ نہیں ہے کیونکہ ان کا رجسٹرڈ آفس کوٹلی میں ہے لیکن غیر قانونی طریقے سے میرپور میں آفس چلا رہے ہیں اپنی رقم کی کیش ویلیو چیک کی تو معلوم ہوا ہے کہ اصل رقم سے 35 سے 40 فیصد رقم ہی غائب ہے ہم نے احتجاج کیا کہ چلیں منافع تو نہ دیں اصل رقم تو دے دیں لیکن کمپنی کے اہلکار انکاری ہیں اور کمپنی کا انچارج خواجہ نثار آفس سے غائب ہے باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خواجہ نثار نے بے روزگار لڑکیوں اور لڑکوں کو مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر بھرتی کیا ہوا ہے جو سادہ لوح لوگوں کو جھانسہ دے کر مختلف سکیموں میں رقم انویسٹمنٹ کرواتے ہیں اور اکاؤنٹ کھولتے وقت اتنی شرائط پر دستخط کروا لیتے ہیں جس سے کسٹمرز کے روپے ضائع ہونے پر کمپنی اپنے آپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتی اور کسٹمرز کی جمع پونجی ضائع ہو جاتی ہے اس وقت آزاد کشمیر بھر کے لوگوں کے اربوں روپے کمپنی ڈکار چکی ہے لوگوں کو تین گنا منافع کا لالچ دیا جاتا ہے جبکہ منافع تو دور کی بات اصل رقم سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے ایجنٹ اقساط کے لئے لوگوں کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں لوگوں نے خبریں نیوز کو بتایا کہ کمپنی کے اہلکار پہلے تو ہماری رقم کی کیش ویلیو بتانے سے انکاری تھے اور مختلف حیل و حجت سے کام لیتے رہے بعد میں ہمارے اصرار پر جب اصل حقیقت سامنے آئی تو ہمارے پاؤں سے جیسے زمین ہی نکل گئی بیس لاکھ جمع کروائے چھ لاکھ غائب تھے اسی طرح ہمارے خاندان سے دو کروڑ کے قریب انشورنس خریدی گئی تھی جہاں سے پچاس لاکھ کی رقم غائب ہے اس وقت آزاد کشمیر سے کمپنی کو سالانہ کروڑوں کی اقساط جا رہی ہے لوگ لٹ رہے ہیں انتظامیہ اپنا کردار ادا کرے لوگوں نے خبریں تو بتایا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے ہمیں نقصان کا نہ بولا گیا بنارس اور خواجہ نثار نے رقم واپسی کا بولا تھا جو اب انکاری ہیں ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ رسیدیں واپس لیں اور ہماری رقم واپس کریں ہم سڑکیں بند کریں گے جب تک اصل رقم نہیں ملتی دفتر کا گھراؤ کریں گے خبریں نے جب موقف لینے کے لئے انچارج کمپنی آزاد کشمیر خواجہ نثار کے ان کے موبائل نمبر پر رابطہ کیا تو فون نہ اٹھایا اور مینیجر خلیل سے رابطہ کرنے کا بولا جب خلیل سے کی بات ہوئی تو خلیل مینیجر نے کہا کہ آپ میرا موقف نہ چھاپیں میں انچارج نہیں ہوں آپ خواجہ نثار سے موقف لیں البتہ ہم لوگوں کی رقم کی بابت کمپنی سے بات کریں گے سٹاک ایکسچینج میں مندی کے باعث لوگوں کی رقوم ضائع ہوئیں خواجہ نثار کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ کمیشن کی آڑ میں موصوف نے تھوتھال کے علاقے میں مکان بھی خرید رکھا ہے اور موصوف جو رکشوں میں سفر کرتا تھا گاڑیوں اور بنک بیلنس کا بھی مالک ہے لوگوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ و ہائی کورٹ، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے پرزور مطالبہ کیا کہ ہماری رقوم جو جھانسہ دے کر لوٹی گئیں واپس کروائی جائیں اور جوبلی انشورنس کے آفس آزاد کشمیر بھر سے بند کئے جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں